* ✍🏻Today's message📜 * The name of the beloved friend

 

حضرت آدم علیہ السلام اور ختم نبوّت


 امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
جب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی
 یا رب اسئلك بحق محمد ان غفرت لی
الہی ! میں تجھے محمدصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرماارشاد ہوا:
اے آدم! تو نے محمدصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم )کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی:
 الٰہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا:
لا الٰہ الاّ ﷲ محمّد رسول اﷲ
 تو میں نے جاناتو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاك کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔فرمایا:
صدقت یا اٰدم انہ لاحب الخلق الیّ واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لك ولو لا محمد ما خلقتک زاد الطبرانی وھو اٰخر الانبیاء من ذرّیتک
ترجمہ:
اے آدم! تو نے سچ کہا بیشك وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی،اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا۔طبرانی نے یہ اضافہ کیا:وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہےصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم

حوالہ جات:

1: المستدرك للحاکم کتاب التاریخ،استغفار آدم علیہ السلام بحق محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت،۲/ ٦١٥
2: دلائل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء فی تحدّث رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ،بیروت،۵/ ٤٨٩
 3: المعجم الاوسط للطبرانی،حدیث ٢٤٩٨،مکتبتہ المعارف ریاض،۷/ ۲۵۹

Comments